|
| Browse Subject |
|
|
|
|
|
|
|
|
| |
|
|
| Reading Room |
| |
 |
| |
|
|
|
|
| Opinion Poll |
|
 |
| |
| |
| |
|
|
| Penguin Books India |
| |
|
| |
Tihar Mein Mere Shab-o-roz : by Iftikhar Gilani |
|
| پینگوئن بکس انڈیا، یاترا بکس |
: |
ناشر |
|
 |
2005 |
: |
تاریخ اشاعت |
| پینگوئن |
: |
مطبوعه |
| 150 |
: |
قیمت |
| 0144001632 |
: |
آئی ایس بی این |
| پیپربیک |
: |
یڈیشن |
| بی |
: |
فارمٹ |
| 194 |
: |
صفحات |
| نان فکشن |
: |
زمره |
|
| عالمی |
: |
حقوق |
|
|
| |
| Published by |
: |
Penguin Books-Yatra Books |
| Published |
: |
2005 |
| Language |
: |
Urdu |
Imprint |
: |
Penguin |
Cover Price |
: |
Rs. 150 |
ISBN |
: |
0144001632 |
Edition |
: |
Paperback |
Format |
: |
B |
Page extent |
: |
194 pp |
Classification |
: |
Non-fiction |
Rights |
: |
World |
|
 |
|
|
|
|
|
|
|
| |
| |
AUTHOR NOTE |
|
| |
افتخار گیلانی قریب ڈیڑھ دهائی سے صحافت کے میدان میںسرگرم هیں۔ اس درمیان انهوں
نے بهت سی ملکی،غیرملکی خبررساںایجنسیوںاوراخباروںکے لئے اپنی خدمات انجام دی هیں۔اس وقت وه دهلی میں'کشمیرٹائمس'کے بیوروچیف کے طورپر کام کر رهے هیں۔اس
کےعلاوه وه ڈائچے ویلے ریڈیو(وائس آف جرمنی)کے لئے بھی اپنی خدمات انجام دیتے
هیں۔ساتھ هی پاکستانی اخبارات'ڈیلی ٹائمس'٬ 'فرائڈے ٹائمس'اور'خبریں'کے بھی هندوستان
میںنمائندے هیں۔
|
|
| |
|
|
| |
DESCRIPTION |
|
| |
9 جون،2002،رات چار بج کر 30منٹ،افتخارگیلانی،کشمیرٹائمس کے صحافی کوزوردار
دستک کی آواز کے ساتھ نیند سے جگایاگیا۔افتخارگیلانی نے دروازه کھولاتوچندپولیس کے
آدمیوںکوپایاجن کے هاتھوںمیںان کے گھرکاسرچ وارنٹ تھا۔کچھ هی دیرمیںان کا گھر
پولیس کی چھاؤنی میںتبدیل هو چکاتھا۔گیلانی کوجلدهی اس بات کا احساس هو گیا که وه
پولیس کی حراست میں هیں۔پاکستان کی آئی ایس آئی کوجموںکشمیرمیںآرمی کی موجودگی کی معلومات فراهم کرنے کاالزام ان پر لگایاگیاتھااوراس کی سزا تجویزکی گئی 14 سال قیدِ
بامشقت۔گیلانی پر جو کچھ بھی گزری، یه کتاب اسی ڈراؤنے خواب کی کهانی هے۔
راتوں رات گیلانی کو ایک صحافی سے پاکستانی جاسوس بنا دیا گیا۔ گیلانی کے لئے جیل
کی ان تلخ یادوں کو بھلانا ناممکن تھا۔ ایک صحافی کی حیثیت سے گیلانی جیل میں گزرے هوئے شب و روز کو بھول نه سکے۔ انهیں هائی سیکورٹی وارڈ میں قید کیا گیا تھا۔ انهیں
تب تک مار پڑتی رهی جب تک جسم سے خون نے بهنا شروع نهیں کر دیا۔ یهاں تک که ان سے گندگی سے بھرے ٹوائلٹ کو اپنی شرٹ سے صاف کرنے کے لئے کها گیا۔ پھر وهی شرٹ دوباره انهیں پهننے پر مجبور کیا گیا۔
|
|
| |
|
|
| |
آخرکار2003 جنوری میں سرکار کو ان پر لگے الزاموں کو واپس لینا پڑا، وه بھی تب جب
میڈیا اور انسانی حقوق کے پرستاروں نے آواز بلند کی اور اس طرح گیلانی پھر سے آزاد کر دئے گئے۔ لیکن گیلانی کی کهانی ایک ایسا سچ هے جو بیان کرتی هے که کس طرح
قانون کے سفاک هاتھوں کے زیرِاثر کسی بھی معصوم انسان کو کچھ لوگ اپنی انا اورطاقت کے لئے استعمال کرتے هیں۔
|
|
| |
|
|
| |
گیلانی نے اس کتاب میں یه بتانے کی کوشش کی هے که جمهوری ملک میں انصاف،
سچائی اور انفرادی آزادی کی آواز کو خاموش نهیں کیا جا سکتا۔ یهاں گیلانی نے اپنے اوپر لگے الزامات کو غلط ثابت کر دکھایا هے۔ آخر میں گیلانی نے اس بات کا بھی اشاره دیا
هے که یه لڑائی ان کی اپنی نهیں هے۔
|
|
| |
|
|
| |
'افتخار گیلانی کے دردناک تجربات اس بات کی گواهی دیتے هیں که دلّی کے نام نهاد
دانشوروں میں کشمیر اور کشمیریوں کے خلاف کتنا غلط خیال اندر تک گھر کر چکا هے۔بلکه اس میں وه ادارے بھی شامل هیں جن کو انصاف پسند کها جاتا هے۔ اس کتاب میں
گیلانی نے یه بھی بتانے کی کوشش کی هے که ان سب کے باوجود سماج کے بڑے طبقے میں(جن میں علمی ادارے اور میڈیا بھی شامل هے) انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے کی همت ابھی بھی موجود هے۔' اے۔جی۔نورانی، قانون داں اور کالم نگار
|
|
|
|
| |
|
|
| |
|
|
|