|
| Browse Subject |
|
|
|
|
|
|
|
|
| |
|
|
| Reading Room |
| |
 |
| |
|
|
|
|
| Opinion Poll |
|
 |
| |
| |
| |
|
|
| |
|
| |
|
| |
|
| |
Ka'i Chand The Sar-e-Aasman: : by Shamsur Rahman Faruqi |
|
| پینگوئن بکس انڈیا، یاترا بکس |
: |
ناشر |
|
 |
2006 |
: |
تاریخ اشاعت |
| پینگوئن |
: |
مطبوعه |
| 450 |
: |
قیمت |
| 0143099760 |
: |
آئی ایس بی این |
| پیپربیک |
: |
یڈیشن |
| ڈیمائی |
: |
فارمٹ |
| 853 |
: |
صفحات |
| فکشن |
: |
زمره |
|
| عالمی(بجزپاکستان) |
: |
حقوق |
|
|
| |
| Published by |
: |
Penguin Books-Yatra Books |
| Published |
: |
2006 |
| Language |
: |
Urdu |
Imprint |
: |
Penguin |
Cover Price |
: |
Rs. 450 |
ISBN |
: |
0143099760 |
Edition |
: |
Paperback |
Format |
: |
Demy |
Page extent |
: |
853 pp |
Classification |
: |
Fiction |
Rights |
: |
World(excluding Pakistan) |
|
 |
|
|
|
|
|
|
| |
AUTHOR NOTE |
|
| |
برصغیرکے ادبی حلقوںمیںشمس الرحمن فاروقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نهیں۔انهوںنے کوئی چالیس سال تک اردو کے مشهورومعروف ادبی ماهنامه٬شب خون٬ کی ادارت کی اور اس کے ذریعه اردومیںادب کے بارے میںنئے خیالات،اور برصغیراوردوسرے ممالک کے اعلی ادب کی ترویج کی۔شمس الرحمن فاروقی نے اردواورانگریزی میںکئی اهم کتابیں
لکھی هیں۔خدائے سخن میرتقی میرکے بارے میںان کی کتاب'شعرشورانگیز'جوچارجلدوں
میںهے،کئی بار چھپ چکی هے اوراس کو1996میںسرسوتی سمّان ملاجوبرصغیرکاسب سے بڑاادبی ایوارڈ کها جاتا هے۔شمس الرحمن فاروقی نے تنقید،شاعری،فکشن،لغت نگاری،
داستان،عروض،ترجمه،یعنی ادب کے هر میدان میںتاریخی اهمیت کے کارنامے انجام دئے
هیں۔ انهیںمتعدداعزازواکرام مل چکے هیںجن میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی
ڈی۔لٹ۔ کی ڈگری بھی شامل هے۔
|
|
| |
|
|
| |
DESCRIPTION |
|
| |
شمس الرحمن فاروقی کا یه ناول اردو فارسی شاعری اور هند اسلامی تهذیب کی مرقع
نگاری کے انھیں سچے رنگوں سے عبارت هے جو 'سوار' کے افسانوں میں هر صفحے
پر جھلکتے اور جھمکتے هیں۔ اٹھارویں صدی کے راجپوتانے سے شروع هونے والی اور ایک صدی سے کچھ زیاده عرصه بعد دلی کے لال قلعے میں ختم هونے والی یه داستان
هندوستانی فنکار کی روح کی گهرائیوں میں اترنے کی کوشش کرنے کے علاوه هند اسلامی تهذیب، ادبی معاشره، انگریزی سیاست، اور اس کی وجه سے تهذیب اور تاریخ کے بدلتے هوئے پیکر همارے سامنے پیش کرتی هے۔ یه ناول همیں یه بھی بتاتا هے که اٹھارویں اور انیسویں صدی کے هند اسلامی معاشره میں شاعر، عاشق، فنکار اور عام انسان، زندگی اور جذباتی اور روحانی تکمیل کی تلاش کس طرح اور کن اصولوں کی بنا پر کرتے تھے۔ دلی کی مٹتی هوئی بادشاهت کے سائے میں پھلنے پھولنے والی اس تهذیب کا منظرنامه غالب،
ذوق، داغ، گھنشیام لال عاصی، امام بخش صهبائی، حکیم احسن خان وغیره بهت سے حقیقی کرداروں سے جگمگا رها هے۔ اس ناول کو اٹھارویں اور انیسویں صدی کی هند اسلامی
تهذیب میں قومی یک جهتی، زندگی، محبت اور فن کی تلاش کهیں تو بجا هوگا۔
|
|
| |
|
|
| |
'مدتوں بعد اردو میں ایک ایسا ناول آیا هے جس نے هندوپاک کی ادبی دنیا میں هلچل مچا
دی هے۔ کیا اس کا مقابله اس هلچل سے کیا جائے جو ٬امراؤ جان ادا٬ نے اپنے وقت میں
پیدا کی تھی؟ اور یه ناول ایک ایسے شخص کے قلم سے هے جسے اول اول هم نقاد اور
محقق کی حیثیت سے جانتے هیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے بطور ناول نگار خود کو
منکشف کیا هے۔ اور محقق فاروقی یهاں پر ناول نگار فاروقی کو پوری پوری کمک پهنچا
رها هے۔' انتظار حسین
|
|
| |
|
|
| |
'اگر یه ناول نه هوتا تو همیں کچھ بھی معلوم نه هو سکتا که هند اسلامی دنیا اور بالخصوص دلی کی دنیا انیسویںصدی میں واقعی بھلا کس طرح کی تھی اور کیسی تھی۔' افضال احمد سید |
|
| |
|
|
| |
'یه ناول مجھے اندر سے بدل کر رکھ دیتا هے اور ان چیزوں کے لئے دل میں ایک
زبردست هوک پیدا کر دیتا هے جنهیں هم کھو چکے تھے اور جن کی بازیافت کی امید بھی همیں نه تھی۔' مشرف فاروقی
|
|
| |
|
|
| |
''کئی چاند تھے سر آسماں' اکیسویں صدی هی کی نهیں اردو فکشن کی بهترین کتاب هے۔'
اسلم فرخی
|
|
| |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|